2 ‌صحيح مسلم: كِتَابُ الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ (بَابُ قِصَّةِ أَصْحَابِ الْغَارِ الثَّلَاثَةِ وَالتَّوَسُّلِ بِصَالِحِ الْأَعْمَالِ)

صحیح

7132 حدثني محمد بن إسحاق المسيبي، حدثني أنس يعني ابن عياض أبا ضمرة، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: " بينما ثلاثة نفر يتمشون أخذهم المطر، فأووا إلى غار في جبل، فانحطت على فم غارهم صخرة من الجبل، فانطبقت عليهم، فقال بعضهم لبعض: انظروا أعمالا عملتموها صالحة لله، فادعوا الله تعالى بها، لعل الله يفرجها عنكم، فقال أحدهم: اللهم إنه كان لي والدان شيخان كبيران، وامرأتي، ولي صبية صغار أرعى عليهم، فإذا أرحت عليهم، حلبت، فبدأت بوالدي، فسقيتهما قبل بني، وأنه نأى بي ذات يوم الشجر، فلم آت حتى أمسيت، فوجدتهما قد ناما، فحلبت كما كنت أحلب، فجئت بالحلاب، فقمت عند رءوسهما أكره أن أوقظهما من نومهما، وأكره أن أسقي الصبية قبلهما، والصبية يتضاغون عند قدمي، فلم يزل ذلك دأبي ودأبهم حتى طلع الفجر، فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك، فافرج لنا منها فرجة، نرى منها السماء، ففرج الله منها فرجة، فرأوا منها السماء، وقال الآخر: اللهم إنه كانت لي ابنة عم أحببتها كأشد ما يحب الرجال النساء، وطلبت إليها نفسها، فأبت حتى آتيها بمائة دينار، فتعبت حتى جمعت مائة دينار، فجئتها بها، فلما وقعت بين رجليها، قالت: يا عبد الله اتق الله، ولا تفتح الخاتم إلا بحقه، فقمت عنها، فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك، فافرج لنا منها فرجة، ففرج لهم، وقال الآخر: اللهم إني كنت استأجرت أجيرا بفرق أرز، فلما قضى عمله قال: أعطني حقي، فعرضت عليه فرقه فرغب عنه، فلم أزل أزرعه حتى جمعت منه بقرا ورعاءها، فجاءني فقال: اتق الله ولا تظلمني حقي، قلت: اذهب إلى تلك البقر ورعائها، فخذها فقال: اتق الله ولا تستهزئ بي فقلت: إني لا أستهزئ بك، خذ ذلك البقر ورعاءها، فأخذه فذهب به، فإن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك، فافرج لنا ما بقي، ففرج الله ما بقي،

صحیح مسلم :

کتاب: ذکر الٰہی،دعا،توبہ اور استغفار

(باب: غار میں پھنسے ہوئے تین آدمیوں کا قصہ اور نیک اعمال کا وسیلہ اختیار کرنا)

١. الشيخ محمد يحيىٰ سلطان محمود جلالبوري (دار السّلام)

7132. انس بن عیاض ابو ضمرہ نے موسیٰ بن عقبہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی۔ آپ نے فرمایا: ’’تین آدمی پیدال چلے جا رہے تھے کہ انہیں بارش نے آ لیا، انہوں نے پہاڑ میں ایک غار کی پناہ لی، تو (اچانک) ان کے گار کے منہ پر پہاڑ سے ایک چٹان آ گری اور ان کے اوپر آ کر انہیں ڈھانک دیا، انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم اپنے ان نیک اعمال پر نظر ڈالو جو تم نے (صرف اور صرف) اللہ کے لیے کیے ہوں اور ان کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، شاید وہ اس بندش اور قید سے تمہیں آزاد کر دے۔ اس پر ان میں سے ا...

4 ‌جامع الترمذي: أَبْوَابُ السِّيَرِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ (بَابٌ هَلْ يُسْهَمُ لِلْعَبْدِ​)

صحیح

1660 حدثنا قتيبة حدثنا بشر بن المفضل عن محمد بن زيد عن عمير مولى آبي اللحم قال شهدت خيبر مع سادتي فكلموا في رسول الله صلى الله عليه وسلم وكلموه أني مملوك قال فأمر بي فقلدت السيف فإذا أنا أجره فأمر لي بشيء من خرثي المتاع وعرضت عليه رقية كنت أرقي بها المجانين فأمرني بطرح بعضها وحبس بعضها وفي الباب عن ابن عباس وهذا حديث حسن صحيح والعمل على هذا عند بعض أهل العلم لا يسهم للمملوك ولكن يرضخ له بشيء وهو قول الثوري والشافعي وأحمد وإسحق

جامع ترمذی : كتاب: سیر کے بیان میں (باب: مالِ غنیمت میں غلام کے حصے کا بیان​)

٢. فضيلة الدكتور عبد الرحمٰن الفريوائي ومجلس علمي (دار الدّعوة، دهلي)

1660. عمیرمولیٰ ابی اللحم ؓ کہتے ہیں: میں اپنے مالکان کے ساتھ غزوئہ خیبرمیں شریک ہوا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے میرے سلسلے میں گفتگوکی اورآپﷺ کو بتایا کہ میں غلام ہوں، چنانچہ آپ نے حکم دیا اور میرے جسم پر تلوار لٹکا دی گئی، میں (کوتاہ قامت ہونے اورتلوار کے بڑی ہونے کے سبب) اسے گھسیٹتا تھا، آپﷺ نے میرے لیے مال غنیمت سے کچھ سامان دینے کا حکم دیا، میں نے آپﷺ کے سامنے وہ دم، جھاڑپھونک پیش کیا جس سے میں دیوانوں کو جھاڑپھونک کرتا تھا، آپ نے مجھے اس کا کچھ حصہ چھوڑدینے اورکچھ یادرکھنے کا حکم دیا۱؎۔امام ترمذی کہتے ہیں:۱۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔۲۔ اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی رو...

6 ‌مسند احمد: تتمة مسند الأَنصار (حَدِيثُ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ )

حديث صحيح

22507 حدثنا ربعي بن إبراهيم أخو إسماعيل ابن علية وأثنى عليه خيرا قال وكان يفضل على إسماعيل حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق عن محمد بن زيد بن المهاجر عن عمير مولى آبي اللحم قال شهدت مع سادتي خيبر فأمر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلدت سيفا فإذا أنا أجره قال فقيل له إنه عبد مملوك قال فأمر لي بشيء من خرثي المتاع قال وعرضت عليه رقية كنت أرقي بها المجانين في الجاهلية قال اطرح منها كذا وكذا وارق بما بقي قال محمد بن زيد وأدركته وهو يرقي بها المجانين

مسند احمد : انصار کی مسند کی تکمیل (حضرت عمیر رضی اللہ عنہ " جو آبی اللحم کے آزاد کردہ غلام ہیں " کی حدیثیں)

مولانا محمد ظفر اقبال

22507. حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں غزوہ خیبر میں اپنے آقاؤں کے ساتھ شریک تھا انہوں نے میرے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے حکم دیا اور میرے گلے میں تلوار لٹکادی گئی (وہ اتنی بڑی تھی کہ ) میں اسے زمین گھسیٹتا ہوا چلتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ میں غلام ہوں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی ماندہ سامان میں سے کچھ مجھے بھی دینےکا حکم دے دیا۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک منترپیش کیا جس سے میں زمانہ جاہلیت میں مجنونوں کو جھاڑا کرتا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ ...